24

او جی ڈی سی اور امریکی کمپنی بیکر ہیوز میں معاہدہ، پرانے تیل و گیس کے اثاثوں سے پیداوار بڑھانے کا منصوبہ

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) نے امریکی توانائی ٹیکنالوجی کمپنی بیکر ہیوز کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے جس کے تحت پرانے اور پیداوار میں کمی کا شکار تیل و گیس کے کنوؤں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بحال کرکے ملکی ہائیڈروکاربن پیداوار بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

معاہدے پر دستخط او جی ڈی سی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران کیے گئے، جس میں اسپیشل سیکریٹری پٹرولیم مرزا ناصرالدین مسعود احمد اور امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

او جی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد حیات لک، جبکہ او جی ڈی سی اور بیکر ہیوز کے سینئر حکام بھی تقریب میں موجود تھے۔

معاہدے کے تحت بیکر ہیوز اپنی تکنیکی مہارت، جدید ٹیکنالوجیز اور مربوط صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے او جی ڈی سی کے پرانے تیل و گیس کے اثاثوں میں پیداوار بڑھانے کے نئے مواقع کی نشاندہی کرے گی اور موجودہ پیداواری چیلنجز سے نمٹنے میں معاونت فراہم کرے گی۔

مچیور اثاثہ جات سلوشنز کا مقصد ایسے قائم شدہ تیل و گیس کے شعبوں سے مزید پیداوار حاصل کرنا ہے جہاں وقت گزرنے کے ساتھ قدرتی طور پر پیداوار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

یہ شراکت داری او جی ڈی سی کے جامع پروڈکشن آپٹیمائزیشن ڈرائیو کا حصہ ہے، جس کا مقصد کمپنی کے موجودہ پیداواری اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے او جی ڈی سی کے ایم ڈی اور سی ای او احمد حیات لک نے کہا کہ کمپنی تیل و گیس کی پیداوار کو بہتر بنانے اور پاکستان کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی معیار کی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ بامعنی شراکت داری کررہی ہے۔

انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ منصوبے پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا جائے گا اور اس کے ذریعے او جی ڈی سی کے پرانے اثاثوں کو دوبارہ فعال اور زیادہ پیداواری بنانے میں مدد ملے گی۔

اسپیشل سیکریٹری پٹرولیم مرزا ناصرالدین مسعود احمد نے کہا کہ یہ شراکت داری ملکی توانائی سلامتی کے لیے اہم ثابت ہوگی اور مقامی تیل و گیس کی پیداوار زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوششوں میں معاونت کرے گی۔

امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے معاہدے کو پاک امریکا توانائی شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اقتصادی سلامتی کی بنیاد ہے اور او جی ڈی سی اور بیکر ہیوز کے درمیان تعاون پاکستان کی توانائی سلامتی مضبوط بنانے کے مشترکہ مقصد کو آگے بڑھائے گا۔

بیکر ہیوز کے گلوبل ڈائریکٹر مچیور ایسٹ سلوشنز طارق عبدالفتاح نے کہا کہ یہ تعاون دونوں کمپنیوں کے مشترکہ مقاصد کی عکاسی کرتا ہے اور پاکستان میں نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے امکانات تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

او جی ڈی سی کے پاس اس وقت 18 بڑے مچیور اثاثے موجود ہیں، جن میں 12 آئل فیلڈز اور چھ گیس اور کنڈینسیٹ فیلڈز شامل ہیں۔

کمپنی اس وقت یومیہ 40 ہزار بیرل سے زائد خام تیل پیدا کررہی ہے، جبکہ اس کی قدرتی گیس کی پیداوار تقریباً 815 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ ہے۔

او جی ڈی سی کی موجودہ پیداوار میں تقریباً 780 میٹرک ٹن ایل پی جی یومیہ اور 80 میٹرک ٹن سلفر یومیہ بھی شامل ہے۔

مچیور اثاثوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا مقصد ان قائم شدہ فیلڈز اور کنوؤں سے مزید پیداوار اور ریکوری کے مواقع تلاش کرنا ہے جہاں قدرتی طور پر پیداوار میں کمی واقع ہوچکی ہے۔

پاکستان کے لیے موجودہ تیل و گیس کے اثاثوں سے پیداوار میں اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مقامی ہائیڈروکاربن پیداوار میں اضافے سے درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے اور ملک کی توانائی سلامتی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

او جی ڈی سی اور بیکر ہیوز کے درمیان معاہدہ اس حوالے سے موجودہ اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی و مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں