171

ٹرمپ کی امداد معطلی سے لاکھوں اموات کا خدشہ: اقوام متحدہ

مانیٹرنگ ڈیسک
اقوام متحدہ کے ایڈز پروگرام کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیرونِ ملک امداد معطل کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں لاکھوں اموات ہو سکتی ہیں۔

امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ ترقیاتی امداد فراہم کرنے والا ملک ہے، اور زیادہ تر فنڈنگ یو ایس ایڈ (USAID) کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے۔ تاہم، جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے تین ماہ کے لیے زیادہ تر امریکی غیر ملکی امداد روک دی، جس کے باعث عالمی سطح پر انسانی امدادی ادارے بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔

یو این ایڈز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر وِنی بیانیمہ نے خبردار کیا:
“یہ صورتحال بہت سے ممالک میں سنگین ہو سکتی ہے۔ اگر یہ فنڈنگ ختم ہو گئی تو لاکھوں افراد کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔”

ایڈز سے اموات میں ‘دس گنا’ اضافہ
صدر کے ہنگامی ایڈز ریلیف پروگرام (PEPFAR) کے تحت 2 کروڑ سے زائد ایچ آئی وی مریضوں اور 2 لاکھ 70 ہزار طبی عملے کی مدد کی جاتی ہے۔

یو این ایڈز کے اندازوں کے مطابق، اگر یہ فنڈنگ مکمل طور پر معطل رہی تو آئندہ پانچ برسوں میں ایڈز سے اموات دس گنا بڑھ کر 6.3 ملین تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ نئے کیسز کی تعداد 8.7 ملین تک جا سکتی ہے۔

اگرچہ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ “زندگی بچانے والے علاج” اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے، لیکن افریقی ممالک میں فرنٹ لائن طبی مراکز پہلے ہی بند ہونا شروع ہو چکے ہیں۔

افریقی ممالک پر قرضوں کا بوجھ
یہ بحران افریقی یونین کے اجلاس میں بھی زیرِ بحث آیا، جہاں وِنی بیانیمہ نے افریقی رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ غیر ملکی امداد پر انحصار کم کر کے ملکی آمدنی پر توجہ دیں۔

تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ بیشتر افریقی ممالک قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں، جن میں کچھ ممالک کی 50 فیصد سے زائد آمدنی صرف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہی ہے۔

“اس مسئلے کا حل فوری اور جامع قرضوں کی تنظیم نو میں ہے، کیونکہ قرضوں کا بوجھ صحت اور تعلیم کے لیے مختص بجٹ کو متاثر کر رہا ہے۔”

واضح رہے کہ 1961 میں قائم ہونے والے یو ایس ایڈ (USAID) کا سالانہ بجٹ 40 ارب ڈالر سے زائد ہے، جو دنیا بھر میں ترقیاتی، صحت اور انسانی امداد کے پروگراموں میں خرچ کیا جاتا ہے، خاص طور پر غریب ممالک میں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں