
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور امریکی مشیر قومی سلامتی کے درمیان رابطہ ہوا، جس میں افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اسلحے کی واپسی پر اور سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت ہوئی، اگر امریکا اپنے چھوڑے گئے ہتھیار افغانستان سے واپس لے لیتا ہے تو اس سے خطے میں امن بحال ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان پرعزم ہے اور ہماری سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں کامیاب رہی ہیں۔ پاکستان نے شریف اللہ کے خلاف امریکہ کے ساتھ تعاون کیا، جو کہ دہشت گردی کے خلاف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان نے داعش دہشتگرد کو امریکا کے حوالے یو این قرارداد کے مطابق کیا۔ ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سعودی عرب روانہ ہو چکے ہیں، جہاں وہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس میں فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم اور غزہ کے لوگوں کی جبری بے دخلی کے خلاف حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امداد کی بندش کی سخت مذمت کرتا ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کی مذمت بھی کی۔ترجمان کا کہنا تھاکہ 5 مارچ کو بھارتی وزیر خارجہ کے کشمیر سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ کشمیری عوام کے تحفظات کو محض اقتصادی بحالی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ضروری ہے۔ آزاد کشمیر سے متعلق بھارتی بیانات میں تیزی آ رہی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
166

