مانیٹرنگ ڈیسک
اسلام آباد: اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد سے متعلق تنازعات کے جلد اور شفاف حل کے لیے اوورسیز پراپرٹی ایکٹ 2024 کے تحت اسلام آباد میں خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی اور ججز کی نامزدگی کا اختیار سیشن ججز کو دے دیا۔
اس حوالے سے رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری قانون و انصاف کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں ہدایت دی گئی ہے کہ سیشن ججز (ایسٹ اور ویسٹ) اوورسیز پاکستانیوں کے کیسز سننے کے لیے خصوصی عدالتیں نامزد کریں۔ مزید کہا گیا ہے کہ ججز کی نامزدگی کے دوران زیر التوا مقدمات اور جوڈیشل افسران کے تجربے کو مدنظر رکھا جائے۔
خط میں مزید ذکر کیا گیا ہے کہ وزارت قانون اوورسیز پراپرٹی ایکٹ 2024 کے تحت سیشنز ایسٹ اور ویسٹ کے نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ عدالتوں کی فعالیت یقینی بنائی جا سکے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی خصوصی بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے، جو اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گا۔
جسٹس خادم حسین سومرو کو ان کیسز اور اپیلوں کی سماعت کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے، اور اس فیصلے کی باقاعدہ منظوری قائم مقام چیف جسٹس نے دی ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
یہ اقدام اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد تنازعات کے بروقت حل کے لیے ایک اہم پیشرفت تصور کی جا رہی ہے، جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مؤثر اور تیز رفتار انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔

