او جی ڈی سی ایل نے آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت آٹھ آف شور ایکسپلوریشن بلاکس حاصل کر لیے ہیں، جس کے ساتھ پاکستان میں تقریباً دو دہائیوں بعد سمندری تیل و گیس کی تلاش کا نیا دور دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے Production Sharing Agreements (PSAs) اور Exploration Licences (ELs) کے اجرا کے ذریعے آف شور ایکسپلوریشن فرنٹیئر دوبارہ کھول دیا ہے، جسے ملک میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں وزارتِ پیٹرولیم میں ہونے والی دستخطی تقریب میں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے شرکت کی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو آف شور ایکسپلوریشن کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے کی سمت ایک “اہم سنگ میل” قرار دیا۔

تقریب میں او جی ڈی سی ایل کی نمائندگی ایم ڈی/سی ای او احمد حیات لک اور ہیڈ آف ایکسپلوریشن ڈاکٹر خالد امین خان نے کی۔ اس موقع پر سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن، جوائنٹ وینچر (JV) پارٹنرز کے ایم ڈیز اور Government Holdings Private Limited کے نمائندے بھی موجود تھے۔
تفصیلات کے مطابق آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت او جی ڈی سی ایل کو مجموعی طور پر آٹھ ایکسپلوریشن بلاکس دیے گئے ہیں، جن میں دو بلاکس میں کمپنی بطور آپریٹر کام کرے گی جبکہ چھ بلاکس میں وہ جوائنٹ وینچر پارٹنر کے طور پر شریک ہوگی۔ تمام معاہدوں پر او جی ڈی سی ایل اور اس کے JV پارٹنرز نے باضابطہ دستخط کیے۔
حکام کے مطابق پاکستان کے آف شور علاقوں کو دوبارہ کھولنا توانائی کے وسیع غیر دریافت شدہ ذخائر تک رسائی کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو مستقبل میں ملکی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔
یہ پیش رفت او جی ڈی سی ایل کی آف شور ایکسپلوریشن موجودگی کو نمایاں طور پر بڑھاتی ہے اور کمپنی کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی ایکسپلوریشن سرگرمیوں کو مزید فروغ دے رہی ہے۔

